مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 17655
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ الرِّيَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشِّرْكَ الْأَكْبَرَ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الرِّيَاءِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم ریاکاری کو بڑا شرک شمار کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ریاکاری کے بارے میں ایک حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” چھوٹا شرک“ ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعلیٰ بن شداد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔