مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ - وَرُبَّمَا قَالَ : - كَأَنَّهُ حَمَلٌ ، يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ ، انْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِي ، فَأَنَا أَجْزِيكَ بِهِ ، وَانْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِغَيْرِي فَيُجَازِيكَ عَلَى الَّذِي عَمِلْتَ لَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُدَلِّسُونَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ابن آدم کو لایا جائے گا ، یوں جیسے وہ ” بذج“ ہو ( بعض اوقات راوی یہ لفظ نقل کرتے ہیں : ) جیسے وہ ” حمل“ ہو ( دونوں الفاظ کا مطلب بوجھ یا سامان ہے ) پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں بہترین حصہ دار ہوں ، تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ! جو تم نے میرے لئے کیا ، میں تمہیں اس کا بدلہ دے دوں گا ، اور تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ، جو تم نے میرے غیر کے لیے کیا تھا ، تو وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا ، جو عمل تم نے اس کے لئے کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں مدلس راوی ہیں ۔