مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ قَالَ : لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، أَلْفَيْنَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ ، وَشَمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا نَتَنَاجَى ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مَنْ ثَبَجِ - يَعْنِي مِنْ وَسَطِ - الْمُسْلِمِينَ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ ، أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلَهُ ، لَا يَحُوزُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُوزُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، فَجَلَسَا إِلَيْهِ . فَقَالَ شَدَّادٌ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ ، لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ " . فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ : اللَّهُمَّ غَفْرًا ، أَوَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَدَّثَنَا : " أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ؟ ! . فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا ، هَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتُهَا ، فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ ؟ ! فَقَالَ شَدَّادُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ أَنَّ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ ، أَوْ يَصُومُ لِرَجُلٍ ، أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ ، أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ وَاللَّهِ ، إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ لَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ شَدَّادٌ : فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ : أَفَلَا يَعْمِدُ اللَّهُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلُ مَا خَلَصَ لَهُ ، وَيَدَعُ مَا أُشْرِكَ بِهِ ؟ ! قَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي ، مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا ; فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ ، أَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ " . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں تھے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا ہے ، میں نے ان سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے جسم پر یوں کپکپی طاری ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے ، جیسے اللہ کے خوف کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو جائے گی ، میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، میرے والد نے فرمایا : اب کے بعد تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا ، پھر انہوں نے مجھے ملاحظہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید میں نے ان کی بات کو توجہ نہیں دی ، تو انہوں نے فرمایا : ” میں نے سیدنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن ان کی اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی تھی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نے جائزہ لیا تو ایسا ہی تھا ، تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔