❮
❯
حدیث نمبر: 17651
وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ قَالَ : لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، أَلْفَيْنَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ ، وَشَمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا نَتَنَاجَى ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مَنْ ثَبَجِ - يَعْنِي مِنْ وَسَطِ - الْمُسْلِمِينَ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ ، أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلَهُ ، لَا يَحُوزُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُوزُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، فَجَلَسَا إِلَيْهِ . فَقَالَ شَدَّادٌ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ ، لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ " . فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ : اللَّهُمَّ غَفْرًا ، أَوَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَدَّثَنَا : " أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ؟ ! . فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا ، هَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتُهَا ، فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ ؟ ! فَقَالَ شَدَّادُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ أَنَّ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ ، أَوْ يَصُومُ لِرَجُلٍ ، أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ ، أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ وَاللَّهِ ، إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ لَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ شَدَّادٌ : فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ : أَفَلَا يَعْمِدُ اللَّهُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلُ مَا خَلَصَ لَهُ ، وَيَدَعُ مَا أُشْرِكَ بِهِ ؟ ! قَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي ، مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا ; فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ ، أَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ " . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین

ابن غنم بیان کرتے ہیں : جب میں اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے ، تو ہم نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پایا ، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور اپنے دائیں ہاتھ سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑا ، پھر وہ ہم دونوں کے درمیان چلتے ہوئے باہر نکلے ، ہم آپس میں سرگوشی کر رہے تھے ، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم کیا سرگوشی کر رہے تھے ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم دونوں میں سے کسی ایک کی ، یا تم دونوں کی عمر لمبی ہوئی ، تو عنقریب تم دونوں ایک ایسے شخص کو دیکھو گے ، جو مسلمانوں کے درمیانے طبقے ( ثبج یعنی وسط ) سے تعلق رکھتا ہو گا ، جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کے مطابق قرآن پڑھا ہو گا ، اسے بار بار دہرایا ہو گا ، اس کے حلال کو حلال قرار دیا ہو گا ، اس کے حرام کو حرام قرار دیا ہو گا اور اس کی منازل پر ٹھہرا ہو گا ، یا اس نے اپنے بھائی کی زبان سے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کے مطابق قراءت کے طور پر اسے پڑھا ہو گا ، پھر اسے بار بار دہرایا ہو گا ، اس کے حلال کو حلال قرار دیا ہو گا ، اس کے حرام کو حرام قرار دیا ہو گا اور اس کی منازل پر ٹھہرا ہو گا ، لیکن تمہارے درمیان اس کی قدر صرف اتنی ہو گی ، جتنی مردہ گدھے کے سر کی قدر ہوتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ دونوں ان کے پاس بیٹھ گئے ، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پوشیدہ خواہش اور شرک ۔ “ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! مغفرت فرما ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات نہیں بتائی تھی : ” کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے “ ؟ جہاں تک پوشیدہ خواہش کا تعلق ہے ، تو اسے ہم جان چکے ہیں ، یہ دنیا کی خواہشات ہیں ، یعنی اس کی عورتیں اور اس کی خواہشات ، تو اے شداد ! یہ کون سا شرک ہے ، جس سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو ؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھتا ہے ، یا کسی آدمی کی خاطر روزہ رکھتا ہے ، یا اس کی خاطر صدقہ کرتا ہے ، تو کیا تم یہ سمجھو گے کہ اس نے شرک کیا ہے ؟ ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! جو شخص کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھے ، یا اس کی خاطر روزہ رکھے ، یا اس کی خاطر صدقہ کرے ، تو اس نے شرک کیا ، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھتا ہے ، اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھاوے کے لیے روزہ رکھتا ہے ، اس نے شرک کیا اور جو شخص دکھاوے کے لیے صدقہ کرتا ہے ، اس نے شرک کیا ۔ “ اس موقع پر سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ اس سارے عمل میں سے اس حصے کی طرف توجہ نہیں فرمائے گا ، جس کے ذریعے اس کی رضا طلب کی گئی ہو ، اور جو اس کے لیے خالص ہو اسے قبول کر لے اور جس میں شرک کیا گیا ہو ، اسے چھوڑ دے ؟ اس موقع پر سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : جو شخص میرے ساتھ شرک کرتا ہے ، میں اس کے لیے سب سے بہتر حصہ دار ہوں ، جو شخص کسی چیز کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو اس کا سارا عمل ، تھوڑا ہو یا زیادہ ، اس کے اُس شریک کے لیے ہو گا ، جسے اس نے شریک ٹھہرایا اور میں اس سے بے نیاز ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17651
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7139) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 16690»