مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : جِئْتُ أَبِي فَقَالَ لِي : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : وَجَدْتُ أَقْوَامًا مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْهُمْ ، يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَيَرْعَدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، فَقَعَدْتُ مَعَهُمْ ، قَالَ : لَا تَقْعُدْ مَعَهُمْ بَعْدَهَا ، فَرَآنِي كَأَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ ذَلِكَ فِي ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَتْلُونَ الْقُرْآنَ ، فَلَا يُصِيبُهُمْ هَذَا ، أَفَتَرَاهُمْ أَخْشَعُ لِلَّهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ ! فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَتَرَكْتُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں تھے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا ہے ، میں نے ان سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے جسم پر یوں کپکپی طاری ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے ، جیسے اللہ کے خوف کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو جائے گی ، میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، میرے والد نے فرمایا : اب کے بعد تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا ، پھر انہوں نے مجھے ملاحظہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید میں نے ان کی بات کو توجہ نہیں دی ، تو انہوں نے فرمایا : ” میں نے سیدنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن ان کی اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی تھی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نے جائزہ لیا تو ایسا ہی تھا ، تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔