مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : أَنَا خَيْرُ شَرِيكٍ ، فَمَنْ أَشْرَكَ مَعِيَ شَرِيكًا فَهُوَ لِشَرِيكِي . يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَخْلِصُوا أَعْمَالَكُمْ لِلَّهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَقْبَلُ مِنَ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَا خَلَصَ لَهُ ، وَلَا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِلرَّحِمِ ; فَإِنَّهَا لِلرَّحِمِ وَلَيْسَ لِلَّهِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَلَا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِوُجُوهِكُمْ ; فَإِنَّهَا لِوُجُوهِكُمْ وَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهَا شَيْءٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُجَشِّرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ” میں “ سب سے بہتر شراکت دار ہوں ، جو شخص کسی کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو وہ عمل میرے شریک کے لئے ہو گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے لوگو ! عمل کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف انہی اعمال کو قبول کرتا ہے ، جو اس کے لئے خالص ہوں ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور رشتہ داری کے تعلق کے لیے ہے ، کیونکہ وہ رشتہ داری کے تعلق کے لیے شمار ہو گا ، اس میں سے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز نہیں ہو گی ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور تم لوگوں کے لیے ہے ، کیونکہ وہ تم لوگوں کے لیے شمار ہو گا ، اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن مجشر سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔