حدیث نمبر: 17649
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْمَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِنَاسٍ مِنَ النَّاسِ إِلَى الْجَنَّةِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْهَا ، وَاسْتَنْشَقُوا رِيحَهَا ، وَنَظَرُوا إِلَى قُصُورِهَا ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، نُودُوا : أَنِ اصْرِفُوهُمْ عَنْهَا لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا ، فَيَرْجِعُونَ بِحَسْرَةٍ مَا رَجَعَ الْأَوَّلُونَ بِمِثْلِهَا ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، لَوْ أَدْخَلْتَنَا النَّارَ قَبْلَ أَنْ تُرِيَنَا مَا أَرَيْتَنَا مِنْ ثَوَابِكَ ، وَمَا أَعْدَدْتَ فِيهَا لِأَوْلِيَائِكَ ; كَانَ أَهْوَنَ عَلَيْنَا ، قَالَ : ذَاكَ أَرَدْتُ بِكُمْ ، كُنْتُمْ إِذَا خَلَوْتُمْ بَارَزْتُمُونِي بِالْعَظَائِمِ ، وَإِذَا لَقِيتُمُ النَّاسَ لَقِيتُمُوهُمْ مُخْبِتِينَ تُرَاؤُونَ النَّاسَ بِخِلَافِ مَا تُعْطُونِي مِنْ قُلُوبِكُمْ ، هِبْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تَهَابُونِي ، أَجْلَلْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تُجِلُّونِي ، وَتَرَكْتُمْ لِلنَّاسِ وَلَمْ تَتْرُكُوا لِي ، فَالْيَوْمَ أُذِيقُكُمْ أَلِيمَ الْعَذَابِ مَعَ مَا حَرَمْتُكُمْ مِنَ الثَّوَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو جُنَادَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس کے قریب پہنچ جائیں گے ، اور اس کی خوشبو کو محسوس کریں گے اور اس کے محلات کو دیکھیں گے اور اس میں موجود ان چیزوں کو دیکھیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے تیار کی ہیں ، تو انہیں پکار کر یہ کہا: جائے گا : تم اس ( جنت کے قریب کے مقام ) سے پھر جاؤ ! ان لوگوں کا اس جنت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ، تو وہ لوگ ایسی حسرت کے ہمراہ پلٹ جائیں گے ، کہ پہلے کے لوگ اس طرح کی حسرت کے ہمراہ واپس نہیں گئے ہوں گے ، وہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنا جو ثواب ہمیں دکھایا ہے ، اور اس میں تو نے اپنے دوستوں کے لئے جو کچھ تیار کیا ہے ، اگر تو وہ ہمیں دکھانے سے پہلے ، تو ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا ، تو یہ ہمارے لئے زیادہ آسان ہونا تھا ، پروردگار فرمائے گا : میں تمہارے بارے میں یہی ارادہ رکھتا تھا ، جب تم لوگ خلوت میں ہوتے تھے ، تو تم بڑی بڑی باتوں کے ذریعے مجھے للکارتے تھے ، اور جب تم لوگوں سے ملتے تھے تو تم تواضع کا اظہار کرتے تھے ، تم لوگوں کے سامنے اس چیز کا دکھاوا کرتے تھے جو اس چیز کے برخلاف تھی ، جو تم اپنے دلوں کے حوالے سے مجھے دیتے تھے ، تم لوگوں سے ڈرتے رہے اور تم مجھ سے نہیں ڈرے ، تم نے لوگوں کا احترام کیا اور تم نے میرا احترام نہیں کیا ، تم نے لوگوں کے لئے ترک کر دیا اور میرے لئے ترک نہیں کیا ، آج میں تمہیں دردناک عذاب چکھاؤں گا اور یہ اس کے ہمراہ ہو گا ، جو میں نے تمہیں ثواب سے محروم رکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجنادہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (85/17)»