مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: دنیا کے زائل ہو جانے کے بارے میں ، غور و فکر کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ فِي مُلْكِهِ ، فَتَفَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ ، وَأَنَّهُ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ ، فَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ ، فَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْآجُرِّ ، وَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ ، وَعِبَادَتُهُ ، وَفَضْلُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلِكُهُمْ أَنْ يَأْتِيَ فَأَبَى ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ، وَقَالَ : مَا لَهُ وَمَا لِي ؟ قَالَ : فَرَكِبَ الْمَلِكُ فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ فَلَمْ يُدْرِكْهُ ، قَالَ : فَنَادَاهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ ، فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ - رَحِمَكَ اللَّهُ - ؟ ! قَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا ، تَفَكَّرْتُ فِي أَمْرِي فَعَلِمْتُ أَنَّ مَا أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ ، وَأَنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي ، فَتَرَكْتُهُ وَجِئْتُ هَهُنَا ، أَعْبُدُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي . قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ ، وَسَيَّبَهَا فَتَبِعَهُ ، فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَدَعَوُا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا . قَالَ : فَمَاتَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَوْ كُنْتَ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يُعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” تم لوگوں سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص تھا ، وہ اپنی حکومت میں تھا ، اس نے غور و فکر کیا تو اسے یہ بات پتہ چلی کہ یہ چیز اس سے جدا ہو جائے گی اور اس حکومت نے اسے اس کے پروردگار کی عبادت سے مشغول ( یعنی غافل ) رکھا ہوا ہے ، اس نے طے کیا اور ایک رات اپنے محل سے نکل کھڑا ہوا ، پھر وہ کسی اور ریاست میں پہنچ گیا ، وہ سمندر کے ساحل پر آیا اور وہاں اینٹیں بنانے کی مزدوری کرنے لگا ، وہ کھانا کھا لیتا تھا اور اضافی رقم صدقہ کر دیتا تھا ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہا ، یہاں تک کہ اس کی عبادت اور فضیلت کے بارے میں اطلاع ، وہاں کے بادشاہ تک پہنچ گئی ، وہاں کے بادشاہ نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا لیکن اس نے انکار کر دیا ، بادشاہ نے پھر پیغام بھیجا ، اس نے پھر انکار کر دیا ، اس کا یہ کہنا تھا : میرا بادشاہ کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ وہ بادشاہ خود سوار ہو کر آیا ، جب اس شخص نے اس بادشاہ کو دیکھا ، تو وہ بھاگ کھڑا ہوا ، جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے بھی اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا ، بادشاہ اس تک نہیں پہنچ سکا ، تو اس نے بلند آواز میں پکار کر اس سے یہ کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہیں میری طرف سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، تو وہ شخص ٹھہر گیا ، بادشاہ اس کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے بتایا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، جو فلاں ملک کا بادشاہ تھا ، میں نے اپنے معاملے کے بارے میں غور و فکر کیا ، تو مجھے یہ بات پتہ چلی کہ جو چیز میرے پاس ہے وہ چھن جائے گی اور اس چیز ( یعنی حکومت ) نے مجھے اپنے پروردگار کی عبادت سے مشغول رکھا ہوا ہے ، تو میں نے اس ( یعنی حکومت ) کو چھوڑ دیا اور یہاں آ گیا تاکہ اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، بادشاہ نے کہا: تم نے جو کیا ہے اس حوالے سے تم اس کے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہو ، پھر بادشاہ اپنی سواری سے اترا ، اس نے اپنی سواری کو چھوڑ دیا اور اس شخص کے پیچھے ہو لیا ، پھر وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ، ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : کہ اُن دونوں کو ایک ساتھ موت آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان دونوں کا انتقال ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں مصر کے چھوٹے ٹیلے کے پاس ہوتا تو تمہیں ان دونوں افراد کی قبریں دکھاتا ، جو اس صفت کے مطابق تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔