حدیث نمبر: 17640
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - : يُؤْتَى بِحَسَنَاتِ الْعَبْدِ وَسَيِّئَاتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَيَّضُ بَعْضُهَا بِبَعْضٍ ، فَإِنْ بَقِيَتْ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ يَبْقَ حَسَنَةٌ ؟ قَالَ : " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ " . قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ؟ . قَالَ " هُوَ الْعَبْدُ ، يَعْمَلُ الْعَمَلَ السِّرَّ أَسَرَّهُ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَرَى قُرَّةَ أَعْيُنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روح الامین علیہ السلام کے حوالے ، سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” پروردگار فرماتا ہے : قیامت کے دن کسی بندے کی نیکیاں اور اس کی برائیاں لائی جائیں گی ، اور ان کا ایک دوسرے کے مقابلے میں حساب ہو گا ، اگر ایک بھی نیکی باقی بچ گئی ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
میں نے دریافت کیا : اگر ایک بھی نیکی نہ بچ پائے ؟ تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” یہ وہ لوگ ہیں ، جن کی طرف سے ہم ان کے کئے ہوئے اچھے عمل قبول کریں گے اور ان کی برائیوں سے ہم درگزر کریں گے ، یہ جنت والوں میں سے ہوں گے ۔ “
راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
” کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے ؟ “ ۔
تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد وہ بندہ ہے ، جو ایسا عمل کرتا ہے ، جو پوشیدہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے معاملے کو پوشیدہ رکھے گا ، اور پھر وہ شخص آنکھوں کی ٹھنڈک دیکھ لے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (12832)»