حدیث نمبر: 17642
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَخْلَفُوا خَلِيفَةً عَلَيْهِمْ بَعْدَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوْقَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي الْقَمَرِ ، فَذَكَرَ أُمُورًا كَانَ صَنَعَهَا ، فَخَرَجَ فَتَدَلَّى بِسَبَبٍ فَأَصْبَحَ السَّبَبُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ " . قَالَ : " فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قَوْمًا عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ ، فَوَجَدَهُمْ يَضْرِبُونَ لَبِنًا ، - أَوْ يَصْنَعُونَ لَبِنًا - فَسَأَلَهُمْ : كَيْفَ تَأْخُذُونَ عَلَى هَذَا اللَّبِنِ ؟ " . قَالَ : " فَأَخْبَرُوهُ ، فَلَبَّنَ مَعَهُمْ ، فَكَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ، فَإِذَا كَانَ حِينُ الصَّلَاةِ قَامَ يُصَلِّي ، فَرَفَعَ ذَلِكَ الْعُمَّالُ إِلَى دِهْقَانِهِمْ : أَنَّ فِينَا رَجُلًا يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ يَسِيرُ عَلَى دَابَّتِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ فَرَّ ، فَاتَّبَعَهُ فَسَبَقَهُ فَقَالَ : انْتَظِرْنِي أُكَلِّمْكَ ، فَقَامَ حَتَّى كَلَّمَهُ ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَلِكًا ، وَأَنَّهُ فَرَّ مِنْ رَهْبَةِ رَبِّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَظُنُّنِي لَاحِقٌ بِكَ " . قَالَ : " فَاتَّبَعَهُ فَعَبْدَا اللَّهَ حَتَّى مَاتَا بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ أَنِّي كُنْتُ ثَمَّ لَاهْتَدَيْتُ إِلَى قَبْرَيْهِمَا بِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي وَصَفَ لَنَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک فرد کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ، اسے اپنے کیے ہوئے بعض کاموں کے بارے میں خیال آیا ، تو وہ نکلا اس نے ایک رسی لٹکائی ، اگلے دن صبح وہ رسی مسجد میں لٹکی ہوئی تھی اور وہ شخص جا چکا تھا ، وہ شخص گیا ، یہاں تک کہ وہ سمندر کے کنارے موجود ایک قوم کے پاس آیا ، اس نے ان لوگوں کو پایا کہ وہ اینٹیں اُٹھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس نے انہیں پایا کہ وہ اینٹیں بنا رہے تھے ، اس نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ اینٹوں کا کیا معاوضہ وصول کرتے ہو ؟ ان لوگوں نے اسے بتایا ، تو وہ بھی ان کے ساتھ اینٹیں بنانے لگا ، وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کر کے اس کی کمائی کھاتا تھا اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تھا ، تو وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگتا تھا ، ان مزدوروں نے اپنے زمیندار کو اس بارے میں بتایا کہ ہمارے درمیان ایک فرد ہے ، جو ایسا ایسا کرتا ہے ، زمیندار نے اس شخص کو پیغام بھیجا ، لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر وہ زمیندار اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کے پاس آیا ، اس شخص نے جب زمیندار کو دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا ، زمیندار اس کے پیچھے گیا ، لیکن وہ فرد آگے نکل گیا ، زمیندار نے اس سے کہا: تم ٹھہر جاؤ ! میں تمہارے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں ، وہ شخص رک گیا ، زمیندار نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے اس زمیندار کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا ، جب اس نے یہ بتایا کہ میں ایک بادشاہ تھا اور میں نے اپنے پروردگار کے خوف کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ دیا ہے ، تو زمیندار نے کہا: اپنے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ مجھے بھی تمہارے ساتھ مل جانا چاہیے ، تو زمیندار اس کے ساتھ ہو لیا اور پھر وہ دونوں مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ، یہاں تک کہ مصر میں ایک چھوٹے ٹیلے کے پاس اُن دونوں کا انتقال ہوا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں وہاں ہوتا تو اُن دونوں کی قبر کے بارے میں رہنمائی کرتا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کیے ہوئے نقشے کے مطابق ہوتی ۔

یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3689) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10307)»