کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دنیا کے زائل ہو جانے کے بارے میں ، غور و فکر کرنا
حدیث نمبر: 17641
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ فِي مُلْكِهِ ، فَتَفَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ ، وَأَنَّهُ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ ، فَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ ، فَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْآجُرِّ ، وَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ ، وَعِبَادَتُهُ ، وَفَضْلُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلِكُهُمْ أَنْ يَأْتِيَ فَأَبَى ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ، وَقَالَ : مَا لَهُ وَمَا لِي ؟ قَالَ : فَرَكِبَ الْمَلِكُ فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ فَلَمْ يُدْرِكْهُ ، قَالَ : فَنَادَاهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ ، فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ - رَحِمَكَ اللَّهُ - ؟ ! قَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا ، تَفَكَّرْتُ فِي أَمْرِي فَعَلِمْتُ أَنَّ مَا أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ ، وَأَنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي ، فَتَرَكْتُهُ وَجِئْتُ هَهُنَا ، أَعْبُدُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي . قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ ، وَسَيَّبَهَا فَتَبِعَهُ ، فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَدَعَوُا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا . قَالَ : فَمَاتَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَوْ كُنْتَ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يُعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” تم لوگوں سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص تھا ، وہ اپنی حکومت میں تھا ، اس نے غور و فکر کیا تو اسے یہ بات پتہ چلی کہ یہ چیز اس سے جدا ہو جائے گی اور اس حکومت نے اسے اس کے پروردگار کی عبادت سے مشغول ( یعنی غافل ) رکھا ہوا ہے ، اس نے طے کیا اور ایک رات اپنے محل سے نکل کھڑا ہوا ، پھر وہ کسی اور ریاست میں پہنچ گیا ، وہ سمندر کے ساحل پر آیا اور وہاں اینٹیں بنانے کی مزدوری کرنے لگا ، وہ کھانا کھا لیتا تھا اور اضافی رقم صدقہ کر دیتا تھا ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہا ، یہاں تک کہ اس کی عبادت اور فضیلت کے بارے میں اطلاع ، وہاں کے بادشاہ تک پہنچ گئی ، وہاں کے بادشاہ نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا لیکن اس نے انکار کر دیا ، بادشاہ نے پھر پیغام بھیجا ، اس نے پھر انکار کر دیا ، اس کا یہ کہنا تھا : میرا بادشاہ کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ وہ بادشاہ خود سوار ہو کر آیا ، جب اس شخص نے اس بادشاہ کو دیکھا ، تو وہ بھاگ کھڑا ہوا ، جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے بھی اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا ، بادشاہ اس تک نہیں پہنچ سکا ، تو اس نے بلند آواز میں پکار کر اس سے یہ کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہیں میری طرف سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، تو وہ شخص ٹھہر گیا ، بادشاہ اس کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے بتایا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، جو فلاں ملک کا بادشاہ تھا ، میں نے اپنے معاملے کے بارے میں غور و فکر کیا ، تو مجھے یہ بات پتہ چلی کہ جو چیز میرے پاس ہے وہ چھن جائے گی اور اس چیز ( یعنی حکومت ) نے مجھے اپنے پروردگار کی عبادت سے مشغول رکھا ہوا ہے ، تو میں نے اس ( یعنی حکومت ) کو چھوڑ دیا اور یہاں آ گیا تاکہ اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، بادشاہ نے کہا: تم نے جو کیا ہے اس حوالے سے تم اس کے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہو ، پھر بادشاہ اپنی سواری سے اترا ، اس نے اپنی سواری کو چھوڑ دیا اور اس شخص کے پیچھے ہو لیا ، پھر وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ، ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : کہ اُن دونوں کو ایک ساتھ موت آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان دونوں کا انتقال ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں مصر کے چھوٹے ٹیلے کے پاس ہوتا تو تمہیں ان دونوں افراد کی قبریں دکھاتا ، جو اس صفت کے مطابق تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17641
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5383) اخرجه احمد فى المسند (4312)»
حدیث نمبر: 17642
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَخْلَفُوا خَلِيفَةً عَلَيْهِمْ بَعْدَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوْقَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي الْقَمَرِ ، فَذَكَرَ أُمُورًا كَانَ صَنَعَهَا ، فَخَرَجَ فَتَدَلَّى بِسَبَبٍ فَأَصْبَحَ السَّبَبُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ " . قَالَ : " فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قَوْمًا عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ ، فَوَجَدَهُمْ يَضْرِبُونَ لَبِنًا ، - أَوْ يَصْنَعُونَ لَبِنًا - فَسَأَلَهُمْ : كَيْفَ تَأْخُذُونَ عَلَى هَذَا اللَّبِنِ ؟ " . قَالَ : " فَأَخْبَرُوهُ ، فَلَبَّنَ مَعَهُمْ ، فَكَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ، فَإِذَا كَانَ حِينُ الصَّلَاةِ قَامَ يُصَلِّي ، فَرَفَعَ ذَلِكَ الْعُمَّالُ إِلَى دِهْقَانِهِمْ : أَنَّ فِينَا رَجُلًا يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ يَسِيرُ عَلَى دَابَّتِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ فَرَّ ، فَاتَّبَعَهُ فَسَبَقَهُ فَقَالَ : انْتَظِرْنِي أُكَلِّمْكَ ، فَقَامَ حَتَّى كَلَّمَهُ ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَلِكًا ، وَأَنَّهُ فَرَّ مِنْ رَهْبَةِ رَبِّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَظُنُّنِي لَاحِقٌ بِكَ " . قَالَ : " فَاتَّبَعَهُ فَعَبْدَا اللَّهَ حَتَّى مَاتَا بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ أَنِّي كُنْتُ ثَمَّ لَاهْتَدَيْتُ إِلَى قَبْرَيْهِمَا بِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي وَصَفَ لَنَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک فرد کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ، اسے اپنے کیے ہوئے بعض کاموں کے بارے میں خیال آیا ، تو وہ نکلا اس نے ایک رسی لٹکائی ، اگلے دن صبح وہ رسی مسجد میں لٹکی ہوئی تھی اور وہ شخص جا چکا تھا ، وہ شخص گیا ، یہاں تک کہ وہ سمندر کے کنارے موجود ایک قوم کے پاس آیا ، اس نے ان لوگوں کو پایا کہ وہ اینٹیں اُٹھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس نے انہیں پایا کہ وہ اینٹیں بنا رہے تھے ، اس نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ اینٹوں کا کیا معاوضہ وصول کرتے ہو ؟ ان لوگوں نے اسے بتایا ، تو وہ بھی ان کے ساتھ اینٹیں بنانے لگا ، وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کر کے اس کی کمائی کھاتا تھا اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تھا ، تو وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگتا تھا ، ان مزدوروں نے اپنے زمیندار کو اس بارے میں بتایا کہ ہمارے درمیان ایک فرد ہے ، جو ایسا ایسا کرتا ہے ، زمیندار نے اس شخص کو پیغام بھیجا ، لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر وہ زمیندار اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کے پاس آیا ، اس شخص نے جب زمیندار کو دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا ، زمیندار اس کے پیچھے گیا ، لیکن وہ فرد آگے نکل گیا ، زمیندار نے اس سے کہا: تم ٹھہر جاؤ ! میں تمہارے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں ، وہ شخص رک گیا ، زمیندار نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے اس زمیندار کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا ، جب اس نے یہ بتایا کہ میں ایک بادشاہ تھا اور میں نے اپنے پروردگار کے خوف کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ دیا ہے ، تو زمیندار نے کہا: اپنے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ مجھے بھی تمہارے ساتھ مل جانا چاہیے ، تو زمیندار اس کے ساتھ ہو لیا اور پھر وہ دونوں مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ، یہاں تک کہ مصر میں ایک چھوٹے ٹیلے کے پاس اُن دونوں کا انتقال ہوا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں وہاں ہوتا تو اُن دونوں کی قبر کے بارے میں رہنمائی کرتا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کیے ہوئے نقشے کے مطابق ہوتی ۔

یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3689) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10307)»