مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّعَاءِ لِقَضَاءِ الدَّيْنِ . باب: قرض کی ادائیگی کے لئے دعا کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُعَاذٍ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ دَيْنًا لَأَدَّى اللَّهُ عَنْكَ ؟ قُلْ يَا مُعَاذُ : اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں کہ اگر تم وہ دعا کر لو گے ، تو اگر تم پر احد پہاڑ جتنا قرض ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ وہ تمہاری طرف سے ادا کروا دے گا ، اے معاذ ! تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ»
” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے حکومت الگ کر دیتا ہے ، تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو جس کو چاہتا ہے وہ دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) عطا کر دیتا ہے ، اور تو جس کو چاہتا ہے ، اسے ان دونوں میں سے نہیں دیتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔