حدیث نمبر: 17444
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ لِي أَبِي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا أُعَلِّمُكِ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " كَانَ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُهُ الْحَوَارِيِّينَ " ، لَوْ كَانَ عَلَيْكِ دَيْنٌ مِثْلَ أُحُدٍ ثُمَّ قُلْتِهِ ; لَقَضَى اللَّهُ عَنْكِ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : قُولِي : " اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ، اور آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو اس کی تعلیم دی تھی ، اگر تمہارے ذمہ اُحد پہاڑ کی مانند قرض ہو اور پھر تم یہ دعا پڑھ لو ، تو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادائیگی کروا دے گا ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے پریشانی کو دور کرنے والے ! تکلیف کو ختم کرنے والے ! پریشان حال کی دعا قبول کرنے والے ! دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو میرا رحمان ہے ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3177)»