حدیث نمبر: 17441
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - افْتَقَدَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَىمُعَاذًا فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ ؟ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِيَهُودِيٍّ عِنْدِي وَقِيَّةٌ مِنْ تِبْرٍ ، فَخَرَجْتُ إِلَيْكَ فَحَبَسَنِي عَنْكَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُ صُبْرَ أَدَّاهُ عَنْكَ ؟ " - وَصُبْرَ : جَبَلٌ بِالْيَمَنِ - " فَادْعُ اللَّهَ يَا مُعَاذُ ، قُلِ : اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا ، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غیر موجود پایا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، تو آپ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا وجہ ہے ، آج میں نے تمہیں نہیں دیکھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک یہودی کا ایک اوقیہ دینا ہے ، جب میں آپ کی طرف آنے کے لیے نکلا ، تو اس نے مجھے روک لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے معاذ ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں کہ جب تم ان کے ہمراہ دعا کرو گے ، تو اگر تم پر ” صبر “ جتنا قرض ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ وہ تمہاری طرف سے ادا کروا دے گا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : ” صبر “ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے معاذ ! تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا ، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ، تو جسے چاہتا ہے ، حکومت عطا کر دیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے ، حکومت الگ کر دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، عزت دیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے ، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، تو مردہ میں سے زندہ نکال دیتا ہے ، اور زندہ میں سے مردہ نکال دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، کسی حساب کے بغیر رزق عطا کرتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! اور ان دونوں کے رحیم ! تو ان دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) میں سے ، جس کو چاہے عطا کر دیتا ہے ، اور جس کو چاہے عطا نہیں کرتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنی رحمت کے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : ” صبر “ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے معاذ ! تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا ، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ، تو جسے چاہتا ہے ، حکومت عطا کر دیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے ، حکومت الگ کر دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، عزت دیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے ، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، تو مردہ میں سے زندہ نکال دیتا ہے ، اور زندہ میں سے مردہ نکال دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، کسی حساب کے بغیر رزق عطا کرتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! اور ان دونوں کے رحیم ! تو ان دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) میں سے ، جس کو چاہے عطا کر دیتا ہے ، اور جس کو چاہے عطا نہیں کرتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنی رحمت کے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
حدیث نمبر: 17442
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ مُعَاذٍ قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ ، فَلَبِثْتُ يَوْمَيْنِ لَا أَخْرُجُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا خَلَّفَكَ ؟ " ، قُلْتُ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَلْقَانِي ، قَالَ : " أَلَا آمُرُكَ بِكَلِمَاتٍ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ أَمْثَالُ الْجِبَالِ قَضَاهُ اللَّهُ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ فِي آخِرِهِ : " اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا حق میرے ذمہ واجب الادا تھا ، مجھے اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں دو دن گھر میں ہی رہا ، باہر نہیں نکلا ، پھر جب میں باہر نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے معاذ ! تم کہاں رہے ؟ میں نے عرض کی : ایک شخص کا کچھ حق میرے ذمہ تھا ، مجھے اس کے حوالے سے اتنا اندیشہ تھا کہ مجھے حیا آئی اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کی مجھ سے ملاقات ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں کچھ کلمات کے بارے میں ہدایت نہ کروں ، کہ اگر تمہارے ذمہ پہاڑوں جتنا قرض ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے ادا کروا دے گا ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :
«اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ»
” اے اللہ ! مجھے غربت سے بے نیاز کر دے ، اور میرا قرض ادا کروا دے اور مجھے اپنی عبادت میں اور اپنی راہ میں جہاد کرتے ہوئے موت دینا ۔ “
یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی نصر بن مرزوق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ سعید بن مسیب نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور دوسری روایت میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
«اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ»
” اے اللہ ! مجھے غربت سے بے نیاز کر دے ، اور میرا قرض ادا کروا دے اور مجھے اپنی عبادت میں اور اپنی راہ میں جہاد کرتے ہوئے موت دینا ۔ “
یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی نصر بن مرزوق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ سعید بن مسیب نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور دوسری روایت میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17443
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُعَاذٍ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ دَيْنًا لَأَدَّى اللَّهُ عَنْكَ ؟ قُلْ يَا مُعَاذُ : اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں کہ اگر تم وہ دعا کر لو گے ، تو اگر تم پر احد پہاڑ جتنا قرض ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ وہ تمہاری طرف سے ادا کروا دے گا ، اے معاذ ! تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ»
” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے حکومت الگ کر دیتا ہے ، تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو جس کو چاہتا ہے وہ دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) عطا کر دیتا ہے ، اور تو جس کو چاہتا ہے ، اسے ان دونوں میں سے نہیں دیتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
«اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ»
” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے حکومت الگ کر دیتا ہے ، تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو جس کو چاہتا ہے وہ دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) عطا کر دیتا ہے ، اور تو جس کو چاہتا ہے ، اسے ان دونوں میں سے نہیں دیتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17444
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ لِي أَبِي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا أُعَلِّمُكِ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " كَانَ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُهُ الْحَوَارِيِّينَ " ، لَوْ كَانَ عَلَيْكِ دَيْنٌ مِثْلَ أُحُدٍ ثُمَّ قُلْتِهِ ; لَقَضَى اللَّهُ عَنْكِ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : قُولِي : " اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ، اور آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو اس کی تعلیم دی تھی ، اگر تمہارے ذمہ اُحد پہاڑ کی مانند قرض ہو اور پھر تم یہ دعا پڑھ لو ، تو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادائیگی کروا دے گا ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
«اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے پریشانی کو دور کرنے والے ! تکلیف کو ختم کرنے والے ! پریشان حال کی دعا قبول کرنے والے ! دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو میرا رحمان ہے ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
«اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے پریشانی کو دور کرنے والے ! تکلیف کو ختم کرنے والے ! پریشان حال کی دعا قبول کرنے والے ! دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو میرا رحمان ہے ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔