مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّعَاءِ لِقَضَاءِ الدَّيْنِ . باب: قرض کی ادائیگی کے لئے دعا کرنا
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ مُعَاذٍ قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ ، فَلَبِثْتُ يَوْمَيْنِ لَا أَخْرُجُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا خَلَّفَكَ ؟ " ، قُلْتُ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَلْقَانِي ، قَالَ : " أَلَا آمُرُكَ بِكَلِمَاتٍ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ أَمْثَالُ الْجِبَالِ قَضَاهُ اللَّهُ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ فِي آخِرِهِ : " اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا حق میرے ذمہ واجب الادا تھا ، مجھے اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں دو دن گھر میں ہی رہا ، باہر نہیں نکلا ، پھر جب میں باہر نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے معاذ ! تم کہاں رہے ؟ میں نے عرض کی : ایک شخص کا کچھ حق میرے ذمہ تھا ، مجھے اس کے حوالے سے اتنا اندیشہ تھا کہ مجھے حیا آئی اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کی مجھ سے ملاقات ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں کچھ کلمات کے بارے میں ہدایت نہ کروں ، کہ اگر تمہارے ذمہ پہاڑوں جتنا قرض ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے ادا کروا دے گا ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : «اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ»
” اے اللہ ! مجھے غربت سے بے نیاز کر دے ، اور میرا قرض ادا کروا دے اور مجھے اپنی عبادت میں اور اپنی راہ میں جہاد کرتے ہوئے موت دینا ۔ “
یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی نصر بن مرزوق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ سعید بن مسیب نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور دوسری روایت میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔