حدیث نمبر: 17441
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - افْتَقَدَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَىمُعَاذًا فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ ؟ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِيَهُودِيٍّ عِنْدِي وَقِيَّةٌ مِنْ تِبْرٍ ، فَخَرَجْتُ إِلَيْكَ فَحَبَسَنِي عَنْكَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُ صُبْرَ أَدَّاهُ عَنْكَ ؟ " - وَصُبْرَ : جَبَلٌ بِالْيَمَنِ - " فَادْعُ اللَّهَ يَا مُعَاذُ ، قُلِ : اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا ، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غیر موجود پایا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، تو آپ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا وجہ ہے ، آج میں نے تمہیں نہیں دیکھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک یہودی کا ایک اوقیہ دینا ہے ، جب میں آپ کی طرف آنے کے لیے نکلا ، تو اس نے مجھے روک لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے معاذ ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں کہ جب تم ان کے ہمراہ دعا کرو گے ، تو اگر تم پر ” صبر “ جتنا قرض ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ وہ تمہاری طرف سے ادا کروا دے گا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : ” صبر “ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے معاذ ! تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا ، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ، تو جسے چاہتا ہے ، حکومت عطا کر دیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے ، حکومت الگ کر دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، عزت دیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے ، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، تو مردہ میں سے زندہ نکال دیتا ہے ، اور زندہ میں سے مردہ نکال دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، کسی حساب کے بغیر رزق عطا کرتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! اور ان دونوں کے رحیم ! تو ان دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) میں سے ، جس کو چاہے عطا کر دیتا ہے ، اور جس کو چاہے عطا نہیں کرتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنی رحمت کے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (154/20)»