مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ دُعَاءِ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: حضرت داؤد علیہ السلام کی دعا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا ، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَارُ السُّوءِ فِي دَارِ الْإِقَامَةِ قَاصِمَةُ الظَّهْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ فِتْنَةً ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ وَبَالًا ، وَمِنْ مِرْآةِ السُّوءِ ; تُقَرِّبُ الشَّيْبَ قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ سُوءٍ تَرْعَانِي عَيْنَاهُ ; وَتَسْمَعُنِي أُذُنَاهُ ، إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا» ” اے اللہ ! میں ایسے مال سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لئے فتنہ بن جائے اور ایسی اولاد سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میرے لیے وبال بن جائے ، اور برائی کے آئینے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو بڑھاپے کی آمد سے پہلے بڑھاپے کو قریب کر دے ، اور میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی آنکھیں مجھ پر رہیں ، اور جس کے کان میری طرف متوجہ رہیں ، وہ اگر کوئی اچھائی دیکھے تو اسے دفن کر دے اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلا دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیام کی جگہ میں برا پڑوی کمر توڑ دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔