مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَ ذَلِكَ الْوَارِثَ مِنِّي ، وَعَافِنِي فِي دِينِي ، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ دِينِي إِلَيْكَ ، وَخَلَّيْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَبِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَ ذَلِكَ الْوَارِثَ مِنِّي ، وَعَافِنِي فِي دِينِي ، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ دِينِي إِلَيْكَ ، وَخَلَّيْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَبِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ» ” اے اللہ ! تو میری سماعت اور میری بصارت کے ذریعے مجھے نفع عطا فرما ، یہاں تک کہ تو ان دونوں کو میری طرف سے وارث بنا دے اور مجھے میرے دین کے بارے میں عافیت عطا فرما ، اور میرا حشر بھی اسی حالت پر کرنا ، جس پر تو نے مجھے زندہ رکھا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا ہو ، اس کے خلاف میری مدد فرما ، یہاں تک کہ تو مجھے اس کی طرف سے بدلہ دکھا دے ، اے اللہ ! میں نے اپنا دین تیرے سپرد کیا ، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا ، اپنا معاملہ تجھے تفویض کر دیا ، اپنی پشت تیرے ساتھ لگا لی ، تیرے مقابلے میں سوائے تیرے ، کوئی اور پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں ہے ، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا ، جسے تو نے بھیجا ہے اور تیری اس کتاب پر ایمان لایا ، جسے تو نے نازل کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے اور وہ متروک ہے ۔