مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
حدیث نمبر: 17391
وَعَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَائِي وَغِنَى مَوْلَايَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ الْإِسْنَادُ الْآخَرُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ غَيْرَ لُؤْلُؤَةَ مَوْلَاةِ الْأَنْصَارِ ، وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوصرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَائِي وَغِنَى مَوْلَايَ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اپنی خوشحالی اور اپنے غلاموں کی خوشحالی کا سوال کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور دوسری سند بھی اسی طرح ہے ، اور امام طبرانی کی سند بھی اسی طرح ہے ، صرف لؤلؤة نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، جو انصار کی کنیز ہے اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔