حدیث نمبر: 17387
وَعَنِ السَّائِبِ الثَّقَفِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَمَّارٍ ، وَكَانَ يَدْعُو بِدُعَاءٍ فِي صَلَاتِهِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : قُلِ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ ، وَقُدْرَتِكِ عَلَى الْخَلْقِ ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي ، وَاقْبِضْنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَشْيَةَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةَ ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَسْأَلُكَ شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اللَّهُمَّ زَيِّنِّي بِزِينَةِ الْإِيمَانِ ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْهُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ هُنَّ أَحْسَنُ مِنْهُنَّ - كَأَنَّهُ يَرْفَعُهُنَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ مِنَ اللَّيْلِ فَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي سَلَّمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ، إِنَّ نَفْسِي نَفْسٌ خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ; فَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سائب تقفی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، وہ اپنی نماز کے دوران دعا کر رہے تھے ، ایک شخص ان کے پاس آیا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ ، وَقُدْرَتِكِ عَلَى الْخَلْقِ ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي ، وَاقْبِضْنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَشْيَةَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةَ ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَسْأَلُكَ شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اللَّهُمَّ زَيِّنِّي بِزِينَةِ الْإِيمَانِ ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْهُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ»
” اے اللہ ! میں تیرے غیب کے علم اور مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا ، جب تک کے بارے میں تو یہ علم رکھے کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے ، اور اس وقت مجھے موت دیدینا ، جب تیرے علم کے مطابق موت میرے حق میں بہتر ہو ، اے اللہ ! میں غیب اور شہادت کے بارے میں خشیت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور رضامندی اور غصے کے عالم میں حق بات کا ( تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور خوشحالی اور غربت میں میانہ روی کا ( تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنے اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جو کسی لاحق ہونے والے ضرر یا گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو ، اے اللہ ! ایمان کی زینت کے ہمراہ مجھے آراستہ کر دے اور مجھے ہدایت کی پیروی کرنے والوں اور ہدایت یافتہ افراد میں شامل کر دے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم دوں ، جو ان سے زیادہ خوبصورت ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : یوں محسوس ہوا ، جیسے وہ اُن کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب تم رات کے وقت اپنے بستر پر جاؤ ، تو یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ إِنِّي سَلَّمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ، وَنَبِيِّكَ الْمُرْسَلِ ، إِنَّ نَفْسِي نَفْسٌ خَلَقْتَهَا ، لَكَ مَحْيَاهَا وَلَكَ مَمَاتُهَا ; فَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَخَّرْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِحِفْظِ الْإِيمَانِ»
” اے اللہ ! میں نے اپنا آپ تیرے سپرد کیا ، میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ، میں نے اپنا معاملہ تجھے تفویض کر دیا ، میں تیری نازل کی ہوئی کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لے آیا ، بے شک میرا وجود ایک ایسا وجود ہے ، جسے تو نے پیدا کیا ہے ، اس کی زندگی تیرے لئے ہے ، اس کی موت تیرے لئے ہے ، اگر تو اسے موت دے گا تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اس ( موت کو مؤخر کر دیتا ہے تو ایمان کی حفاظت کے ہمراہ اس ( وجود ) کی حفاظت کرنا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اس سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1624 و 1625)»