مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : كَانَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ " ، وَزَعَمَ أَنَّهَا دَعَوَاتٌ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ»
” اے اللہ میں تجھ سے تقدیر کے فیصلے پر راضی رہنے اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی اور تیرے دیدار کی لذت اور تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا سوال کرتا ہوں ، جو کسی نقصان دہ چیز یا کسی گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو ۔ “
ان کا یہ کہنا ہے : یہ وہ دعا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔