مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَقَامَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا ، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً ; إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي ، قَالَ : " بَلَى ، قُولِي : اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي ، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»
” اے اللہ ! اے دلوں کو تبدیل کر دینے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت ( یعنی جما ہوا ) رکھنا ۔ “
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ، اولاد آدم میں سے ، جتنے بھی انسان ہیں ، ان میں سے ہر ایک کا دل ، اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ٹھیک رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے ، اور ہم اس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے ، بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم نہیں دیں گے جو میں اپنے لئے کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي ، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا»
” اے اللہ ! اے سیدنا محمد نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے اور میرے دل کے غصے کو رخصت کر دے ، اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا ، فتنوں کی گمراہیوں سے مجھے محفوظ رکھنا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔