مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الْغِنَى ، وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّعَاءِ ، وَخَيْرَ الْمَسْأَلَةِ ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي ، وَارْفَعْ دَرَجَتِي ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فُعِلَ ، وَخَيْرَ مَا عُمِلَ ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي ، وَتَضَعَ وِزْرِي ، وَتُصْلِحَ أَمْرِي ، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَتَحْفَظَ فَرْجِي ، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ . اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ زُنْبُورٍ ، وَعَاصِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ہمراہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الْغِنَى ، وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّعَاءِ ، وَخَيْرَ الْمَسْأَلَةِ ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي ، وَارْفَعْ دَرَجَتِي ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فُعِلَ ، وَخَيْرَ مَا عُمِلَ ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي ، وَتَضَعَ وِزْرِي ، وَتُصْلِحَ أَمْرِي ، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَتَحْفَظَ فَرْجِي ، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي ، وَتَغْفِرَ ذَنْبِي ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ ، آمِينَ ۔ اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ»
” اے اللہ ! تو سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی ، تو سب سے بعد والا ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی ، میں ہر ایسے چوپائے کے شر سے بچنے کے لیے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور میں گناہ اور کسلمندی اور قبر کے عذاب اور خوشحالی کی آزمائش اور غربت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! تو مجھے گناہوں سے اس طرح پاک رکھنا ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا ہے ، اے اللہ ! میرے اور خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ دینا جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے ، یہ وہ چیز ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے پروردگار سے مانگتا ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے بہترین دعا اور بہترین مانگنے اور بہترین کامیابی اور بہترین عمل اور بہترین ثواب اور بہترین زندگی اور بہترین موت کا سوال کرتا ہوں ، تو مجھے ثابت قدم رکھنا ، میرے میزان کو وزنی رکھنا ، میرے درجے کو بلند کرنا ، میری نماز کو قبول کرنا ، میری خطا کی مغفرت کرنا اور میں جنت کے بلند درجات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے اس سب سے بہتر چیز کا سوال کرتا ہوں جو کی گئی ، اور اس سب سے بہتر چیز کا جو عمل کیا گیا ، اور اس سب سے بہتر چیز کا ، جو باطن ہو اور اس سب سے بہتر چیز کا ، جو ظاہر ہو اور جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ، آمین ! اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکر بلند کر دے اور میرے بوجھ کو کم کر دے اور میرے معاملے کو ٹھیک کر دے اور میرے دل کو پاک کر دے اور میرے ذنب کی مغفرت کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت کرنا اور میرے دل کو نورانی کر دینا اور میرے ذنب کی مغفرت کر دینا ، میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن زنبور اور عاصم بن عبید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔