حدیث نمبر: 17361
وَعَنْ أَوْسَطَ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَنَةٍ ، فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ أَوَّلَ ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ ، وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَوْسَطَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

اوسط ابوعمرو بجلی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا ، تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پایا ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، تو تین مرتبہ ایسا ہوا کہ رونے کی وجہ سے آپ کی آواز گھٹ گئی ، پھر آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ” معافاة “ کا سوال کرو ، کیونکہ کسی بھی شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی جو ” معافاة “ کے بعد یقین جیسی ہو ( شاید یہ کاتب یا ناسخ کی غلطی ہے کیونکہ جملہ یہ ہونا چاہیے : ” جو یقین کے بعد ، معافاة ، جیسی ہو ) اور نہ ہی کفر کے بعد شک سے زیادہ شدید کوئی چیز ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اوسط نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (34 و 44)»