حدیث نمبر: 17362
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أُصِيبُ بِهِ خَيْرًا ، فَقَالَ لَهُ : " ادْنُهْ " . فَدَنَا حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتُهُ تَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اعْفُ عَنِّي ; فَإِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَأَنْتَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ التَّمَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیجئے ! جس کے ذریعے میں بھلائی حاصل کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : قریب آ جاؤ ! وہ قریب ہوا ، یہاں تک کہ اُس کے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ مس ہونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یعنی تم یہ پڑھو : )
«اللَّهُمَّ اعْفُ عَنِّي ; فَإِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَأَنْتَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ»
” اے اللہ ! تو مجھ کو معاف کر دے ، بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، تو معاف کرنے والا مہربان ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17362
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1023)»