حدیث نمبر: 17360
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ : أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ تَنَافَسُوا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَادْعُ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا ، وَلِسَانًا صَادِقًا ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَطِيرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس دعا کی تعلیم نہ دوں ؟ جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا اور چاندی کی طرف راغب ہو گئے ہیں ، تو تم ان کلمات کے ہمراہ دعا کرو : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِكَ ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ ، وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا ، وَلِسَانًا صَادِقًا ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ دین کے بارے میں ، میں ثابت قدم رہوں ، اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ہدایت پر میں پختہ رہوں اور میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تیری نعمت کا میں شکر کروں ، اور تیری آزمائش پر میں صبر کروں ، اور تیری اچھے طریقے سے عبادت کروں ، تیرے فیصلے پر راضی رہوں ، اور میں تجھ سے سلامت رہنے والا دل اور سچی زبان مانگتا ہوں اور میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو اپنے علم کے مطابق ( مجھے ) بھلائی عطا فرما ، اور میں تیرے علم کے مطابق ، شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے علم کے مطابق تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17360
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1172)»