مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَدْعِيَةِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي دَعَا بِهَا ، وَعَلَّمَهَا . باب: نبی اکرم ﷺ سے منقول دعاؤں کا بیان ، جو آپ مانگا کرتے تھے ، یا جن کی آپ نے تعلیم دی
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ مَا عَلَّمَنِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي ، وَهَزْلِي وَجِدِّي ، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا أَحْرَمْتَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِصْمَةَ أَبِي حَكِيمَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جن کی تعلیم جبرائیل نے مجھے دی ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَئِي وَعَمْدِي ، وَهَزْلِي وَجِدِّي ، وَلَا تَحْرِمْنِي بَرَكَةَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَا تَفْتِنِّي فِيمَا أَحْرَمْتَنِي»
” اے اللہ ! تو میری خطا کی ، جان بوجھ کر کیے گئے کی ، میرے مذاق کی ، میری سنجیدگی کی مغفرت کر دے ، اور جو تو نے مجھے عطا کیا ہے ، اُس کی برکت سے مجھے محروم نہ رکھنا ، اور جن چیزوں سے تو نے مجھے محروم رکھا ہے ، ان کے بارے میں مجھے آزمائش کا شکار نہ کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عصمہ ابوحکیمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔