مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِشَارَةِ فِي الدُّعَاءِ ، وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ . باب: دعا میں اشارہ کرنا اور دونوں ہاتھ بلند کرنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ ، يَسْتَحْيِي أَنْ يَرْفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا ، لَا خَيْرَ فِيهِمَا ، فَإِذَا رَفَعَ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ فَلْيَقُلْ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ إِذَا رَدَّ يَدَيْهِ فَلْيُفْرَغِ الْخَيْرُ عَلَى وَجْهِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک تمہارا پروردگار حیا والا ہے ، مہربان ہے ، وہ اس بات سے حیا کرتا ہے کہ بندہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور وہ ( پروردگار ) اُن دونوں کو نامراد واپس کر دے کہ اُن دونوں میں کوئی بھلائی نہ ہو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو جب تم میں سے کوئی ایک شخص دونوں ہاتھ اٹھائے تو اسے یہ کہنا چاہیے : «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ” اے زندہ اور بذات خود قائم ذات ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو معبود ہے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے !“
یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے ، پھر جب وہ دونوں ہاتھ یعنی دعا کے بعد نیچے کرے ، تو اس بھلائی کو اپنے چہرے پر ڈال لے ( یعنی دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جارود بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔