مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذُكِرَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ بھیجے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ارْتَقَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى دَرَجَةٍ مِنَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " آمِينَ " . ثُمَّ ارْتَقَى دَرَجَةً أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " . ثُمَّ ارْتَقَى الثَّالِثَةَ فَقَالَ : " آمِينَ " . ثُمَّ جَلَسَ . ¤ قَالَ : فَسَأَلُوهُ : عَلَامَ أَمَّنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، قُلْتُ : آمِينَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ أَحَدَ أَبَوَيْهِ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : آمِينَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ الْبَزَّارُ : صَالِحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے ، تو آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ دوسرے درجے پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ تیسرے درجے پر چڑھے تو پھر آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے کس بات پر آمین کہا: ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : ایسے شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو میں نے کہا: آمین ، جبرائیل نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کو ، یا دونوں کو پائے اور پھر ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہو ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) ایسے شخص کی ناک خاک آلود ہو جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو میں نے کہا: آمین ! ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کے بارے میں امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔