حدیث نمبر: 17315
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . فَلَمَّا نَزَلَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . هَذَا أَوْ نَحْوُهُ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ حَوَانٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِي قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر انہوں نے کہا: ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر انہوں نے کہا: ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جو اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ ، یا اس کی مانند کلمات ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن جوان کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ قیس بن ربیع نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3166)»