کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ بھیجے
حدیث نمبر: 17307
عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَخَطِئَ الصَّلَاةِ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقِ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے سامنے میرا ذکر ہو ، اور وہ مجھ پر درود بھیجنے سے بھٹک جائے ، تو وہ جنت کے راستے سے بھٹک جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن محمد کندی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن محمد کندی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17308
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنَّ مُتَابَعَةَ الْحَدِيثِ الَّذِي قَبْلَهُ قَدْ تُقَوِّيهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص بخیل ہے ، جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، لیکن اس سے پہلے والی روایت اس کو تقویت دیتی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، لیکن اس سے پہلے والی روایت اس کو تقویت دیتی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17309
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . فَلَمَّا نَزَلَ قِيلَ لَهُ . فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَجُلٌ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے تو آپ سے دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو اپنے ماں باپ کو پائے اور پھر وہ دونوں اُسے جنت میں داخل نہ کروا سکیں ( یعنی وہ ان دونوں کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے ) تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دور کرے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو ، اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، اللہ تعالیٰ اُسے دور کرے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17310
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا ، وَفِيهِ جَارِيَةُ بْنُ هَرِمٍ الْفُقَيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ! اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن ہرم فقیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن ہرم فقیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17311
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُولُوا : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُولُوا : آمِينَ . وَمَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُولُوا : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، تم لوگ آمین کہو ! جو شخص اپنے ماں باپ کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، تم لوگ آمین کہو ! اور جس شخص کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، تم لوگ آمین کہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17312
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ : " آمِينَ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، قَالَ : وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَمَاتَ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : آمین ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ! جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے ، اور پھر وہ ایسی حالت میں مرے کہ اُس کی مغفرت نہ ہوئی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے ، آپ کہیں : آمین ، تو میں نے کہا: آمین ! اور جو شخص رمضان کا مہینہ پائے ، اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ کہیں : آمین ، تو میں نے کہا: آمین ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17313
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ارْتَقَى الْمِنْبَرَ ، فَأَمَّنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " تَدْرُونَ لِمَ أَمَّنْتُ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّهُ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَسْحَقَهُ ، قُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَسْحَقَهُ ، قُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَسْحَقَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے تین مرتبہ آمین کہا: ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ میں نے ” آمین“ کیوں کہا: ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ درود نہ بھیجے ، تو وہ جہنم میں جائے اور اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور اسے پرے کر دے ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جو شخص اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے ، اور پھر اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے اور پرے کر دے ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو اور وہ جہنم میں چلا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور پرے کر دے ، تو میں نے کہا: آمین !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17314
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيُّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَصْنَعُهُ . فَقَالَ : " إِنْ جِبْرِيلَ تَبَدَّى لِي فِي أَوَّلِ دَرَجَةٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَبْعَدَهُ ، ( فَقَالَ ) : فَقُلْتُ : آمِينَ . ثُمَّ قَالَ لِي فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ : وَمَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَبْعَدَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . ثُمَّ تَبَدَّى لِي فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَ : وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَبْعَدَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ، آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ نے آمین ، آمین ، آمین کہا: ، جب آپ فارغ ہوئے تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آج ہم نے آپ کو ایک ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پہلے درجے کے پاس جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! جو شخص اپنے ماں باپ کو پائے ، اور وہ دونوں اُسے جنت میں داخل نہ کروائیں ، تو اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے اور مزید دور کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو میں نے کہا: آمین ، پھر دوسرے درجے کے پاس جبرائیل نے مجھ سے کہا: جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے اور مزید دور کر دے ، تو میں نے کہا: آمین ، پھر جبرائیل تیسرے درجے کے پاس میرے سامنے آئے اور بولے : جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر ہو ، اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے اور مزید دور کر دے ، تو میں نے کہا: آمین ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17315
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " . فَلَمَّا نَزَلَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ . وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . هَذَا أَوْ نَحْوُهُ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ حَوَانٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِي قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر انہوں نے کہا: ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر انہوں نے کہا: ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جو اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ ، یا اس کی مانند کلمات ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن جوان کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ قیس بن ربیع نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن جوان کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ قیس بن ربیع نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 17316
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ارْتَقَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى دَرَجَةٍ مِنَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " آمِينَ " . ثُمَّ ارْتَقَى دَرَجَةً أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " . ثُمَّ ارْتَقَى الثَّالِثَةَ فَقَالَ : " آمِينَ " . ثُمَّ جَلَسَ . ¤ قَالَ : فَسَأَلُوهُ : عَلَامَ أَمَّنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : رَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، قُلْتُ : آمِينَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ أَحَدَ أَبَوَيْهِ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : آمِينَ ، وَرَغِمَ أَنْفُ امْرِئٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، قُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ الْبَزَّارُ : صَالِحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے ، تو آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ دوسرے درجے پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ تیسرے درجے پر چڑھے تو پھر آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے کس بات پر آمین کہا: ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : ایسے شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو میں نے کہا: آمین ، جبرائیل نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کو ، یا دونوں کو پائے اور پھر ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہو ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) ایسے شخص کی ناک خاک آلود ہو جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو میں نے کہا: آمین ! ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کے بارے میں امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کے بارے میں امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17317
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمًا إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ حِينَ ارْتَقَى دَرَجَةً : " آمِينَ " ، ثُمَّ رَقِيَ أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ رَقِيَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ وَفَرَغَ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْكَ كَلَامًا الْيَوْمَ مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ ، قَالَ : " وَسَمِعْتُمُوهُ ؟ ! " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَضَ عَلَيَّ حِينَ ارْتَقَيْتُ دَرَجَةً ، فَقَالَ : بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : " قُلْتُ : آمِينَ ، وَقَالَ : بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، ثُمَّ قَالَ : بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لائے ، جب آپ پہلے درجہ پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، جب آپ دوسرے درجہ پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، جب آپ تیسرے درجہ پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، جب آپ منبر سے اترے اور فارغ ہوئے ، تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آج ہم نے آپ کی طرف سے ایسا کلام سنا ہے ، جو ہم نے اس سے پہلے نہیں سنا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اسے سنا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میں پہلے درجہ پر چڑھا ، تو جبرائیل میرے سامنے آئے اور بولے : وہ شخص دور ہو جائے جو اپنے ماں باپ کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پائے اور پھر ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو میں نے کہا: آمین جبرائیل نے کہا: وہ شخص دور ہو جائے ، جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو میں نے کہا: آمین ، جبرائیل نے کہا: وہ شخص دور ہو جائے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو میں نے کہا: آمین !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 17318
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيَ عَتَبَةَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ رَقِيَ أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " ، ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى فَقَالَ : " آمِينَ " ، فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; أَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; أَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ خَرَّجَ ابْنُ حِبَّانَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي صَحِيحِهِ مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی سیڑھی پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آمین ، جب آپ دوسری سیڑھی پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، جب آپ تیسری سیڑھی پر چڑھے تو آپ نے فرمایا : آمین ، پھر آپ نے بتایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جو شخص اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر جہنم میں چلا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں اس سند کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں اس سند کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17319
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا ؟ ! فَقَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَغِمَ أَنْفُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ - أَوْ بَعُدَ - أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ قَالَ : رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ أَوْ رَجُلٍ - أَوْ بَعُدَ - ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ مَا يَتَعَلَّقُ بِبِرِّ الْوَالِدَيْنِ فَقَطْ بِنَحْوِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ پہلے یہ نہیں کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جائے ، جس کے سامنے رمضان کا مہینہ آئے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جائے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ دور ہو جائے ، جو اپنے ماں باپ کو ، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے ، اور پھر بھی جنت میں داخل نہ ہو ، پھر انہوں نے کہا: اُس بندے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جائے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ دور ہو جائے ، جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) تو میں نے کہا: آمین !
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت میں سے صرف وہ والا حصہ مذکور ہے ، جو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید اسلمی ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت میں سے صرف وہ والا حصہ مذکور ہے ، جو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید اسلمی ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔