حدیث نمبر: 17313
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ارْتَقَى الْمِنْبَرَ ، فَأَمَّنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " تَدْرُونَ لِمَ أَمَّنْتُ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّهُ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَسْحَقَهُ ، قُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَسْحَقَهُ ، قُلْتُ : آمِينَ . وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ دَخَلَ النَّارَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَسْحَقَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے تین مرتبہ آمین کہا: ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ میں نے ” آمین“ کیوں کہا: ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ درود نہ بھیجے ، تو وہ جہنم میں جائے اور اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور اسے پرے کر دے ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جو شخص اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے ، اور پھر اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے اور پرے کر دے ، تو میں نے کہا: آمین ( پھر جبرائیل نے کہا: ) جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو اور وہ جہنم میں چلا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور پرے کر دے ، تو میں نے کہا: آمین !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17313
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12552)»