حدیث نمبر: 17312
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ : " آمِينَ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، قَالَ : وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَمَاتَ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ; فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، قُلْ : آمِينَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : آمین ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے کہا: آمین ! جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ کو ، یا اُن دونوں میں سے کسی ایک کو پائے ، اور پھر وہ ایسی حالت میں مرے کہ اُس کی مغفرت نہ ہوئی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دے ، آپ کہیں : آمین ، تو میں نے کہا: آمین ! اور جو شخص رمضان کا مہینہ پائے ، اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے ، آپ کہیں : آمین ، تو میں نے کہا: آمین ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11115)»