حدیث نمبر: 17291
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ بِقَبْرِي مَلَكًا أَعْطَاهُ أَسْمَاعَ الْخَلَائِقِ ، فَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَبْلَغَنِي بِاسْمِهِ ، وَاسْمِ أَبِيهِ ، هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَدْ صَلَّى عَلَيْكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ الْحِمْيَرِيِّ ، وَاسْمُهُ عِمْرَانُ ، يَأْتِي الْكَلَامُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ ، وَنُعَيْمُ بْنُ ضَمْضَمٍ ضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر ایک فرشتے کو مقرر کیا ہے ، اور اسے تمام مخلوق کی آوازیں سننے کی صلاحیت دی ہے ، قیامت کے دن تک جو بھی فرد مجھ پر درود بھیجے گا تو وہ ( فرشتہ ) اس شخص کے نام اور اس کے باپ کے نام کے ہمراہ وہ درود مجھ تک پہنچا دے گا کہ فلاں بن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن جمیری ہے اور اس کا نام عمران ہے ، اس کے بارے میں کلام بعد میں آئے گا ، اس میں ایک راوی نعیم بن ضمضم ہے ، جسے بعض حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17291
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3163 و 3162)»