مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَعَنِ ابْنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عَمَّارٌ : يَا ابْنَ الْحِمْيَرِيِّ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ حَبِيبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَمَّارُ ، إِنَّ لِلَّهِ مَلَكًا أَعْطَاهُ أَسْمَاءَ الْخَلَائِقِ كُلَّهَا ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَبْرِي ، إِذَا مُتُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي يُصَلِّي عَلَيَّ صَلَاةً إِلَّا أَسْمَاهُ بِاسْمِهِ ، وَاسْمِ أَبِيهِ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، صَلَّى عَلَيْكَ فُلَانٌ ، فَيُصَلِّي الرَّبُّ عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَنُعَيْمُ بْنُ ضَمْضَمٍ ضَعِيفٌ ، وَابْنُ الْحِمْيَرِيِّ اسْمُهُ عِمْرَانُ . قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ : لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن حمیری بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے ابن حمیری ! کیا میں تمہیں اپنے محبوب کے حوالے سے حدیث بیان کروں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمار ! بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جسے اس نے ساری مخلوق کی بات سننے کی صلاحیت عطا کی ہے ، جب میں مر جاؤں گا تو وہ قیامت کے دن تک میری قبر کے پاس کھڑا رہے گا ، اور میری امت کا جو بھی فرد مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، تو وہ فرشتہ اس شخص کا اور اس شخص کے باپ کا نام لے کر یہ کہے گا : اے سیدنا محمد ! فلاں شخص نے آپ پر اس طرح درود بھیجا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر پروردگار اس شخص پر ایک کے بدلے میں دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور نعیم بن ضمضم نامی راوی ضعیف ہے اور ابن حمیری نامی راوی کا نام عمران ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے “ ” میزان الاعتدال “ کے مصنف کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔