مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَرَدَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ مِثْلَ قَوْلِهِ ، وَعُرِضَتْ عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ النَّسَائِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْوَلِيدِ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي الثَّانِيَةِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو النَّصِيبِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . وَرُوِيَ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ اُس کے پڑھے ہوئے کی مانند اسے جواب دیتا ہے ، اور وہ قیامت کے دن اُس کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن ولید طبرانی ہے ، اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمر نصیبی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔