مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، فَلَمْ يَتْبَعْهُ غَيْرُ عُمَرَ وَمَعَهُ فَخَّارَةُ مَاءٍ ، فَوَجَدَهُ سَاجِدًا قَالَ : فَتَنَحَّى عَنْهُ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتَ ( يَا عُمَرُ ) حِينَ تَنَحَّيْتَ عَنِّي " . فَقَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، وَرَفَعَ لَهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی آپ کے پیچھے نہیں گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک برتن تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پایا ، تو وہ ذرا پیچھے ہٹ کے کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا تو آپ نے فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا کہ تم مجھ سے پیچھے ہٹ گئے ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے بتایا : ” آپ کی امت کا جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اُس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا اور اس کے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) دس درجات بلند کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔