مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ : كَانَ لَا يُفَارِقُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَّا خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا يَنُوبُهُ مِنْ حَوَائِجِهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ وَقَدْ خَرَجَ ، فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَسْوَافِ ، فَصَلَّى فَسَجَدَ ، وَأَطَالَ السُّجُودَ ، قُلْتُ : قَبَضَ اللَّهُ رُوحَهُ ، قَالَ : وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَدَعَانِي فَقَالَ : " مَا لَكَ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلْتَ السُّجُودَ ، قُلْتُ : قَبَضَ اللَّهُ رُوحَ رَسُولِهِ لَا أَرَاهُ أَبَدًا ، قَالَ : " سَجَدْتُ لِرَبِّي شُكْرًا فِيمَا أَبْلَانِي فِي أُمَّتِي : مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً مِنْ أُمَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَى عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ " . رَوَاهُمَا أَبُو يَعْلَى ، وَفِي الْأُولَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي الثَّانِيَةِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ رِوَايَةِ أَحْمَدَ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ . ¤ان کی نقل کردہ ایک روایت جو اسی صحابی کے حوالے سے منقول ہے ، اس میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم میں سے پانچ یا چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوتے تھے ( یعنی اتنے افراد ہر وقت آپ کے پاس موجود رہتے ) تاکہ دن یا رات میں جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ضرورت درپیش ہو تو وہ کام آ سکیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ باہر تشریف لائے تھے ، میں آپ کے پیچھے چل پڑا ، آپ ” اسواف “ کے مقام پر موجود ایک باغ میں داخل ہوئے ، وہاں آپ نے نماز ادا کی وہاں آپ نے سجدہ کرتے ہوئے سجدے کو طول دیا ، تو میں نے یہ سوچا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور مجھے بلایا ، آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے طویل سجدہ کیا تھا تو میں نے یہ سوچا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی روح کو قبض کر لیا ہے ، اور اب میں آپ کو کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا تھا ، اس چیز کی وجہ سے جو اُس نے مجھے میری امت کے بارے میں عطا کی ہے ، میری اُمت کا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ، اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے ۔ “ یہ دونوں روایات امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہیں ، پہلی روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سجدہ شکر سے متعلق باب میں امام أحمد کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔