مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْعَلُ شَطْرَ صَلَاتِي دُعَاءً لَكَ ، قَالَ : " مَا شِئْتَ " . قَالَ : فَأَجْعَلُ ثُلُثَ صَلَاتِي دُعَاءً لَكَ ، قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَأَجْعَلُ صَلَاتِي كُلَّهَا دُعَاءً لَكَ ، قَالَ : " إِذًا يَكْفِيكَ هَمَّ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی نفلی عبادت کا نصف حصہ آپ کے لئے دعا کرنے کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو تم چاہو ، اس نے دریافت کیا : کیا میں ایک تہائی حصہ آپ کے لیے دعا کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اس نے عرض کی : کیا میں اپنی پوری نفلی عبادت ، آپ کے لیے دعا کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” ایسی صورت میں وہ تمہاری دنیاوی اور اُخروی پریشانیوں کے لئے کفایت کر جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔