مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْعَلُ ثُلُثَ صَلَاتِي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ إِنْ شِئْتَ " . قَالَ : الثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَصَلَاتِي كُلَّهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذًا يَكْفِيكَ اللَّهُ مَا هَمَّكَ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكَ وَآخِرَتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد بن یحیی بن حبان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی نفل عبادت کا ایک تہائی حصہ آپ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اگر تم چاہو ، اس نے دریافت کیا : دو تہائی کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : میں پوری نفل عبادت ( آپ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دوں ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ تمہارے دنیاوی اور اُخروی معاملات کی پریشانیوں ( یا ضروریات کے حوالے سے ) تمہاری کفایت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔