مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ . باب: دعا میں ، اور اس کے علاوہ ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَعَلْتُ صَلَاتِي كُلَّهَا عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " إِذًا يَكْفِيكَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مَا هَمَّكَ مِنْ دُنْيَاكَ وَآخِرَتِكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَلَفْظُهُ : " إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ ، وَيُغْفَرُ ذَنْبُكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں تمام تر نفل عبادت کے دوران ، آپ پر درود بھیجتا رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس صورت میں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کی تمام پریشانیوں کے حوالے سے تمہاری کفایت کر دے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” اس صورت میں تمہاری پریشانی کی کفایت ہو جائے گی ، اور تمہارے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔