مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
حدیث نمبر: 17275
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : يَا بَادِئُ لَا بَدْءَ لَكَ ، وَيَا دَائِمُ لَا نَفَادَ لَكَ ، وَيَا حَيُّ مُحْيِيَ الْمَوْتَى ، أَنْتَ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ کہا: کرتے تھے : ” اے آغاز کرنے والے ! تیرے لیے کوئی آغاز نہیں ہے ، اے ہمیشہ رہنے والے ! تیرا کوئی اختتام نہیں ہے ، اے زندہ ! اے مردوں کو زندگی دینے والے ، تو اس چیز کا نگہبان ہے جو ہر جان نے کمایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔