مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - قَالَ : ضَافَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَيْفًا ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِهِ يَبْتَغِي عِنْدَهُنَّ طَعَامًا فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهُمَا إِلَّا أَنْتَ " . فَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَقَالَ : " هَذِهِ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مہمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو پیغام بھیجا ، تاکہ ان سے کھانے کے لیے کچھ حاصل کریں ، تو آپ کو ان میں سے کسی کے ہاں سے بھی کچھ نہیں ملا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهُمَا إِلَّا أَنْتَ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں ، کیونکہ ان دونوں کا مالک صرف تو ہی ہے ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : پھر بکری کا بھنا ہوا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا حصہ ہے ، اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کا انتظار کر رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن زیاد برجمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔