مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثَمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ، فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ : عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ ؟ مَرَّتَيْنِ قَالَ : ( لَا ) وَمَا ذَاكَ ؟ ! قُلْتُ : لَا إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ، ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : مَا فَعَلْتُ . قَالَ : قُلْتُ : بَلَى . ( قَالَ ) حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ فَقَالَ : بَلَى . وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا ، وَإِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( لَا ) وَاللَّهِ ، مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغْشَى بَصَرِي ، وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ . قَالَسَعْدٌ : فَأَنَا أُنْبِئُكَ بِهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ، ثُمَّ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَّبَعْتُهُ ، فَلَمَّا أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِي الْأَرْضَ ; فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ أَبُو إِسْحَاقَ ؟ ! " . قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَهْ ؟ " . قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، أَلَا إِنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ، ثُمَّ جَاءَكَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ ، قَالَ : " نَعَمْ . دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ : لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ; فَإِنَّهُ لَنْ يَدْعُوَ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) میرا گزر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو مسجد میں موجود تھے ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا ، لیکن مجھے سلام کا جواب نہیں دیا ، میں امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا اسلام میں کوئی نئی چیز سامنے آ گئی ہے ؟ یہ میں نے دو مرتبہ کہا: ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! ہوا یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں سیدنا عثمان کے پاس سے گزرا ، جو مسجد میں موجود تھے ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا ، لیکن پھر مجھے سلام کا جواب نہیں دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : آپ نے اپنے بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تو ایسا نہیں کیا ( سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں نے کہا: جی ہاں ! ( یعنی آپ نے ایسا کیا ہے ) راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ انہوں نے بھی حلف اٹھا لیا اور میں نے بھی حلف اُٹھا لیا راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یاد آیا ، تو انہوں نے کہا: جی ہاں ! ( یعنی ایسا ہوا ہو گا ) میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، تھوڑی دیر پہلے تم میرے پاس سے گزرے تھے ، میں اس وقت ایک چیز کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی ، مجھے جب بھی اس بات کا خیال آتا ہے ، تو میری نگاہ پر پردہ آ جاتا ہے اور میرے دل پر پردہ آ جاتا ہے ( یعنی میری تمام تر توجہ اس بات کی طرف مبذول ہو جاتی ہے ) ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک دعا کا ذکر کیا ، ایک دیہاتی آپ کے پاس آ گیا اور آپ اس کے ساتھ مصروف ہو گئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر گئے تو میں آپ کے پیچھے چل پڑا ، جب مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ مجھ سے پہلے گھر پہنچ جائیں گے ، تو میں نے اپنا پاؤں زور سے زمین پر مارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور دریافت کیا : کون ہے ؟ کیا ابواسحاق ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! کوئی بات نہیں ہے ، صرف یہ ہے کہ آپ نے ہمارے سامنے ایک دعا کا ذکر کیا تھا ، پھر وہ دیہاتی آ گیا ، اور آپ اس کے ساتھ مصروف ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! وہ سیدنا ذوالنون ( یعنی سیدنا یونس علیہ السلام ) کی دعا ہے ، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : )
﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء : 87] ” تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، بے شک میں ظالموں میں سے تھا ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی مسلمان ان کلمات کے ذریعے اپنے پروردگار سے ، جس بھی چیز کے بارے میں دعا کرے گا ، تو پروردگار اس کی دعا کو قبول کرے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال اور امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن محمد بن سعد بن ابی وقاص کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔