حدیث نمبر: 17272
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَعَظَّمَ الرَّبَّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَالَ : " إِنَّ كُرْسِيَّهُ وَسِعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَإِنَّ لَهُ أَطِيطٌ كَأَطِيطِ الرَّحْلِ الْجَدِيدِ ، إِذَا رُكِبَ مِنْ ثِقَلِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ الْهَمَذَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے زیادہ بڑی ہے اور اس میں سے آواز آتی ہے ، جس طرح نئے پالان میں سے آواز آتی ہے ، جب اس پر بوجھ لادا جائے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن خلیفہ ہمذانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح