حدیث نمبر: 17270
وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : أَلَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَقُولُ فِيهِنَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ؟ " تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، عَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، فَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، رَبَّنَا وَجْهُكَ أَكْرَمُ الْوُجُوهِ ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَأُهَا ، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ ، وَتَكْشِفُ الضُّرَّ ، وَتَشْفِي السَّقَمَ ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ ، وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَائِلٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْفُرَاتُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا ، وَالْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

فرات بن سلمان بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہو کر چار رکعت ادا کرے اور ان میں وہ پڑھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے : «تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، عَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، فَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، رَبَّنَا وَجْهُكَ أَكْرَمُ الْوُجُوهِ ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَأُهَا ، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ ، وَتَكْشِفُ الضُّرَّ ، وَتَشْفِي السَّقَمَ ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ ، وَلَا يَبْلُغُ مِدْحَتَكَ قَوْلُ قَائِلٍ» ” تیرا نور مکمل ہے ، تو نے ہدایت عطا کی ، حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، تیری بردباری عظیم ہے ، تو نے درگزر کیا ، حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، تو نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور عطا کیا ، تو حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، اے ہمارے پروردگار ! تیرا چہرہ سب سے زیادہ معزز ہے ، تیری شان سب سے زیادہ عظمت والی ہے ، تیرا عطیہ سب سے زیادہ فضیلت والا اور عمدہ عطیہ ہے ، اے ہمارے پروردگار ! تیری اطاعت کی جائے ، تو تُو شکر قبول کرتا ہے ، اے ہمارے پروردگار ! اگر تیری نافرمانی کی جائے تو تُو مغفرت کرتا ہے ، تو پریشان حال کی دعا قبول کرتا ہے اور پریشانی کو ختم کر دیتا ہے ، تو بیماری کو شفا نصیب کرتا ہے ، تو گناہ کی مغفرت کرتا ہے ، تو توبہ قبول کرتا ہے ، کوئی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا اور کسی کہنے والے کا قول تیری تعریف تک نہیں پہنچ سکتا ۔ “

یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، فرات نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، جسے ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ومنقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (440)»