مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا طَلَبْتَ حَاجَةً فَأَحْبَبْتَ أَنْ تَنْجَحَ فَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَكِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ : ( كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ) ، ( كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ) ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ ، وَالسَّلَامَةِ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ ، اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهُ ، وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم کوئی حاجت طلب کرو اور تمہاری یہ خواہش ہو کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤ ( یعنی تمہاری دعا دعا قبول ہو جائے ) تو تم یہ پڑھو : « لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْحَكِيمُ الْكَرِيمُ بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْحَكِيمُ ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» : ﴿كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [الأحقاف : 3] ، ﴿كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا﴾ [النازعات : 46] ، «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍ ۔ وَالسَّلَامَةِ مِنْ كُلِّ اثْمٍ ، اللهُمَّ لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ ، وَلَا هَمَّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ ، وَلَا دَيْنَا إِلَّا قَضَيْتَهُ وَلَا حَاجَةً مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ»
” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ بلندی والا اور عظمت والا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، وہ حکمت والا اور عزت والا ہے ، اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ زندہ اور حکمت والا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔
( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن وہ لوگ اس ( قیامت ) کو دیکھیں گے ، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ( تو یوں محسوس کریں گے ) گویا وہ ( دنیا میں ) صرف اتنا عرصہ رہے جتنا دن کی ایک گھڑی ( یعنی ایک پہر ) ہوتا ہے ( یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) پیغام ہے ( تو اس قیامت کے دن ) صرف فاسق ( یعنی کفر ) ہی ہلاکت کا شکار ہونگے ۔ “
( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن وہ لوگ اس ( قیامت ) کو دیکھیں گے ( تو یوں محسوس کریں گے ) گویا وہ ( دنیا میں ) صرف اتنا عرصہ رہے ، جتنا شام یا دن چڑھے کا وقت ہوتا ہے ۔ “ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ چیز مانگتا ہوں ، جو تیری رحمت کو واجب کر دے اور تیری مغفرت کو پختہ کر دے ، اور ہر نیکی کے حوالے سے غنیمت ہو ، اور ہر گناہ کے حوالے سے سلامتی ہو ، اے اللہ ! تو میرے ہر گناہ کی مغفرت کر دینا اور ہر پریشانی کو ختم کر دینا اور ہر قرض کو ادا کروا دینا اور دنیا اور آخرت کی حاجات میں سے ہر ایک حاجت کو اپنی رحمت کے وسیلے سے پورا کر دینا ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔