حدیث نمبر: 17265
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ الْعَصْرَ ، وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ، فَمَرَّ كَلْبٌ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ، فَأَشْفَقَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْهِ ، فَدَعَا سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَلَى الْكَلْبِ فَأَهْلَكَهُ اللَّهُ بِقُدْرَتِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صَلَاتِهِ نَظَرَ إِلَى الْكَلْبِ قَدْ هَلَكَ قَالَ : " مَنِ الدَّاعِي مِنْكُمْ عَلَى هَذَا الْكَلْبِ ؟ " . فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ، فَأَعَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ عِنْدَ ذَلِكَ : أَنَا الدَّاعِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَشْفَقْتُ أَنْ يَقْطَعَ عَلَيْكَ صَلَاتَكَ فَدَعَوْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ دَعَوْتَ عَلَيْهِ يَا سَعْدُ ؟ " . فَقَالَ سَعْدٌ : سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَعْدُ ، لَقَدْ دَعَوْتَ فِي يَوْمٍ وَسَاعَةٍ بِكَلِمَاتٍ لَوْ دَعَوْتَ عَلَى مَنْ بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَاسْتُجِيبَ لَكَ ، فَأَبْشِرْ يَا سَعْدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن سنا ، آپ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی ، آپ پہلی دو رکعت ادا کرنے کے بعد تشہد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک کتا آگے سے گزرنے لگا تاکہ آپ کی نماز کو منقطع کر دے ، آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ کتا آپ کے آگے سے نہ گزر جائے ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس کتے کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے تحت اسے ہلاکت کا شکار کر دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے کتے کی طرف دیکھا کہ وہ مر چکا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے اس کتے کے خلاف دعا کی ہے ؟ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اس کے خلاف دعا کی تھی ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ آپ کی نماز منقطع نہ کر دے ، تو میں نے اس کے خلاف دعا کر دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس کے خلاف کیسے دعا کی ؟ سیدنا سعد نے کہا: ( میں نے یہ کلمات پڑھے : )
«سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ»
” تو ہر عیب سے پاک ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اے جلال اور اکرام والے ! تو اس کتے کو ہلاکت کا شکار کر دے ، اس سے پہلے کہ یہ تیرے نبی کی نماز کو توڑ دے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے ایک مخصوص دن میں ، ایک مخصوص گھڑی میں ایسے کلمات کے ہمراہ دعا کی ہے کہ اگر تم آسمانوں اور زمین کے درمیان موجود سب چیزوں کے خلاف دعا کرتے ، تو تمہاری دعا مستجاب ہو جاتی ، تو اے سعد ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13611)»