حدیث نمبر: 17267
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِأَعْرَابِيٍّ ، وَهُوَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً ، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا ، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ . ¤ فَوَكَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَعْرَابِيِّ رَجُلًا فَقَالَ : " إِذَا صَلَّى فَائْتِنِي بِهِ " . فَلَمَّا صَلَّى أَتَاهُ وَقَدْ كَانَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ ، فَلَمَّا أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ وَهَبَ لَهُ الذَّهَبَ وَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ يَا أَعْرَابِيُّ ؟ " . قَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي لِمَ وَهَبْتُ لَكَ الذَّهَبَ ؟ " . قَالَ : لِلرَّحِمِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ لِلرَّحِمِ حَقًّا ، وَلَكِنْ وُهِبْتُ لَكَ الذَّهَبَ بِحُسْنِ ثَنَائِكَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دیہاتی کے پاس سے ہوا ، وہ اپنی نماز کے دوران دعا کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا : «يَا مَنْ لَا تَرَاهُ الْعُيُونُ ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُونُ ، وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُونَ ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَائِرَ ، يَعْلَمُ مَثَاقِيلَ الْجِبَالِ ، وَمَكَايِيلَ الْبِحَارِ ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْأَمْطَارِ ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، وَأَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ ، وَمَا تَوَارَى مِنْ سَمَاءٍ سَمَاءً ، وَلَا أَرْضٍ أَرْضًا ، وَلَا بَحْرٍ مَا فِي قَعْرِهِ ، وَلَا جَبَلٍ مَا فِي وَعْرِهِ ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ ، وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِيمَهُ ، وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيهِ»
” اے وہ ذات ! جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتی ہیں ، اور گمان ، جس کے ساتھ مل نہیں سکتے ہیں ، صفت بیان کرنے والے اس کی حقیقی صفت بیان نہیں کر سکتے ہیں ، حادثات اسے تبدیل نہیں کر سکتے ہیں ، وہ تبدیلیوں سے ڈرتا نہیں ہے ، وہ پہاڑوں کے وزن اور سمندروں کی گہرائی اور بارشوں کے قطروں کے بارے میں اور درختوں کے پتوں کے بارے میں اور جن چیزوں پر رات کی تاریکی آتی ہے ، اور جن پر دن کی روشنی آتی ہے ، ان کی تعداد کے بارے میں علم رکھتا ہے ، آسمان کا کوئی حصہ اور زمین کا کوئی حصہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے ، سمندر اس کی تہوں میں جو کچھ ہے ، پہاڑوں اور ان کی چوٹیوں پر جو کچھ ہے ، کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ( اے اللہ ! ) تو میری عمر کے آخری حصے کو سب سے بہتر حصہ بنا دے اور میرے اختتامی عمل کو سب سے بہتر عمل بنا دے ، اور میرے دنوں میں سب سے بہتر دن اُس دن کو بنا دے ، جس دن میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اُس دیہاتی کے پاس مقرر کیا اور فرمایا : جب یہ نماز ادا کر لے گا تو اسے میرے پاس لے کے آنا ، جب اس نے نماز ادا کر لی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معدنیات میں سے کچھ سونا تحفے کے طور پر دیا گیا تھا ، جب وہ دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ نے وہ سونا اسے عطا کر دیا اور فرمایا : اے اعرابی ! تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : بنو عامر بن صعصعہ سے ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ، میں نے تمہیں سونا کیوں دیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان رشتہ داری کا تعلق ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رشتہ داری کا بھی حق ہوتا ہے لیکن میں نے تمہیں یہ سونا اس لئے دیا ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی اچھے طریقے سے ثناء بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن ابوعبدالرحمن اذری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدعية / حدیث: 17267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح