مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
حدیث نمبر: 17261
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْءٌ لَا يُرَدُّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . تَقُولُ : أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى ، الْأَعَزِّ ، الْأَجَلِّ ، الْأَكْرَمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی دعا ہے جو رد نہ ہوتی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھو : «أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْلَى ، الْأَعَزِّ ، الْأَجَلِّ ، الْأَكْرَمِ» ” میں تجھ سے تیرے اس اسم کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو بلند و برتر ہے ، غلبے والا ہے ، جلیل القدر ہے ، عزت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔