مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدعية— دعاؤں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الدُّعَاءُ مِنْ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ ، وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس بات کا بیان کہ جس چیز کئے ذریعے دعا کا آغاز کیا جائے ؟ پہلے اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا جائے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي اسْمَ اللَّهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ، فَأَعْرَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَجْهِهِ ، فَقَامَتْ فَتَوَضَّأَتْ فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ . فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، إِنَّهَا لَفِي هَذِهِ الْأَسْمَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں صبح کے وقت تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کا وہ اسم تعلیم دیں کہ جب اس کے وسیلے سے دعا کی جائے ، تو اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چہرہ پھیر لیا ، وہ خاتون کھڑی ہوئیں ، انہوں نے وضو کیا اور یہ کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے ساری کی ساری بھلائی مانگتی ہوں ، وہ جس کا مجھے علم ہے اور وہ بھی جس کا مجھے علم نہیں ہے ، اور میں تیرے اس عظیم اسم کے وسیلے سے دعا مانگتی ہوں کہ جب اُس کے وسیلے سے تجھ سے دعا مانگی جائے ، تو تُو دعا قبول کرتا ہے ، اور جب اس کے وسیلے سے تجھ سے مانگا جائے ، تو تُو عطا کرتا ہے ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم وہ ( اسم ) ان اسماء میں سے ایک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عصری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔